رمضان المبارک روحانی سکون کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کو بہتر بنانے کا بھی بہترین موقع ہوتا ہے۔ اگر اس مہینے میں خوراک، نیند اور طرزِ زندگی پر توجہ دی جائے تو دل کی صحت کو نمایاں حد تک بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگ افطار میں زیادہ تلی ہوئی اور مرغن غذائیں کھا لیتے ہیں جس سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دل کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس بلاگ میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ رمضان میں کس طرح متوازن غذا، مناسب ورزش اور صحت مند عادات اپنا کر اپنے دل کو مضبوط اور صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔
متوازن سحری اور افطار کی اہمیت (Importance of Balanced Suhoor and Iftar)
رمضان میں دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے سحری اور افطار میں متوازن غذا لینا بے حد ضروری ہے۔ سحری میں ایسی غذائیں شامل کریں جو دیر تک توانائی فراہم کریں جیسے دلیہ، براؤن بریڈ، انڈے، دہی اور پھل۔ زیادہ نمکین اور چکنائی والی اشیاء سے پرہیز کریں کیونکہ یہ بلڈ پریشر کو بڑھا سکتی ہیں۔ افطار میں کھجور اور پانی سے روزہ کھولنا سنت بھی ہے اور صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے بعد ہلکی اور متوازن غذا جیسے دال، سبزیاں، گرلڈ چکن یا مچھلی استعمال کریں۔ زیادہ تلی ہوئی اشیاء اور میٹھے مشروبات دل پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں، اس لیے اعتدال اختیار کرنا ضروری ہے۔
پانی اور ہائیڈریشن کا کردار (Role of Hydration in Heart Health)
روزے کے دوران طویل وقت تک پانی نہ پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے جو دل کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ افطار سے سحری تک مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے تاکہ خون کی روانی بہتر رہے اور دل کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد ملے۔ میٹھے مشروبات اور سافٹ ڈرنکس سے گریز کریں کیونکہ یہ وزن بڑھانے اور شوگر لیول میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ناریل پانی، لیموں پانی یا سادہ پانی بہترین انتخاب ہیں۔ مناسب ہائیڈریشن بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور دل کے دورے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
تلی ہوئی اور مرغن غذاؤں سے پرہیز (Avoiding Fried and Fatty Foods)
رمضان میں سموسے، پکوڑے، رول اور دیگر تلی ہوئی اشیاء کا استعمال عام ہو جاتا ہے، لیکن یہ غذائیں دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان میں موجود سیچوریٹڈ فیٹس اور ٹرانس فیٹس کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتے ہیں، جس سے شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے بجائے بیک یا گرلڈ اشیاء کا انتخاب کریں۔ زیتون کے تیل میں پکی ہوئی ہلکی غذا دل کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہے۔ اگر آپ پہلے سے دل کے مریض ہیں تو خاص طور پر چکنائی اور نمک کا استعمال محدود رکھیں تاکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول قابو میں رہے۔
دل کی صحت کے لئے نقصان دہ اور متبادل کوکنگ آئل
ہلکی ورزش اور جسمانی سرگرمی (Light Exercise and Physical Activity)
اگرچہ روزے کے دوران شدید ورزش کرنا مناسب نہیں، لیکن ہلکی جسمانی سرگرمی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ افطار کے بعد 20 سے 30 منٹ کی چہل قدمی خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور وزن کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔ تراویح کی نماز بھی ایک معتدل جسمانی سرگرمی ہے جو دل کو متحرک رکھتی ہے۔ مسلسل بیٹھے رہنے سے پرہیز کریں کیونکہ غیر فعال طرزِ زندگی دل کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ باقاعدہ اور ہلکی ورزش رمضان میں بھی دل کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نیند اور ذہنی سکون کی اہمیت (Importance of Sleep and Mental Well-being)
رمضان میں عبادات اور معمولات کی وجہ سے نیند کا نظام متاثر ہو سکتا ہے، لیکن دل کی صحت کے لیے مناسب نیند ضروری ہے۔ کم نیند بلڈ پریشر اور تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ کوشش کریں کہ کم از کم 6 سے 7 گھنٹے کی نیند مکمل ہو۔ ذہنی دباؤ بھی دل کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے ذکر، تلاوت اور مثبت سوچ کو اپنائیں۔ ذہنی سکون دل کی دھڑکن کو متوازن رکھتا ہے اور ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
وزن اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنا (Managing Weight and Cholesterol Levels)
رمضان وزن کم کرنے کا بہترین موقع ہو سکتا ہے، بشرطیکہ احتیاط سے کھایا جائے۔ زیادہ میٹھا، شربت اور ڈیپ فرائیڈ اسنیکس وزن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، جو دل کے لیے نقصان دہ ہے۔ فائبر سے بھرپور غذا جیسے سبزیاں، پھل اور دالیں کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ سرخ گوشت کا استعمال محدود کریں اور مچھلی کو ترجیح دیں۔ باقاعدگی سے اپنا وزن اور بلڈ پریشر چیک کرتے رہیں تاکہ کسی بھی خطرے سے بروقت بچا جا سکے۔
ڈاکٹر سے مشورہ کب ضروری ہے؟ (When to Consult a Doctor?)
اگر آپ کو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دل کا مرض لاحق ہے تو رمضان شروع ہونے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ بعض مریضوں کو ادویات کے اوقات تبدیل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگر روزے کے دوران سینے میں درد، شدید سانس کی کمی یا چکر محسوس ہوں تو فوراً طبی مدد حاصل کریں۔ اپنی صحت کو نظرانداز نہ کریں کیونکہ بروقت علاج زندگی بچا سکتا ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
رمضان المبارک نہ صرف روحانی تربیت کا مہینہ ہے بلکہ صحت مند عادات اپنانے کا بھی سنہری موقع ہے۔ اگر ہم متوازن غذا، مناسب پانی، ہلکی ورزش، مکمل نیند اور ذہنی سکون کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو دل کی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ احتیاط اور اعتدال ہی کامیاب اور صحت مند روزے کی کنجی ہے۔
بہترین کارڈیالوجسٹ سے اپائنٹمنٹ بک کریں (Book Appointment with Best Cardiologist via InstaCare)
اگر آپ کو دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، سینے میں درد یا ہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہے تو تاخیر نہ کریں۔ ماہر امراضِ قلب سے مشورہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آپ آسانی سے InstaCare کے ذریعے بہترین کارڈیالوجسٹ سے اپائنٹمنٹ بک کر سکتے ہیں اور مستند ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں تاکہ آپ کا رمضان صحت مند اور محفوظ گزرے۔